عوام پر توانائی اور ضروریات زندگی کے بڑھتے بوجھ کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات

0

اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے تیل و گیس کی فراہمی پر دباؤ، توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیش نظر عوام، خصوصاً عام آدمی پر اشیائے ضروریہ کے بڑھتے بوجھ کو کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

یہ ہدایات صدر نے ایوانِ صدر میں ایک توسیعی مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی، جس میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف، چاروں صوبوں کی قیادت، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندگان شریک تھے۔


اجلاس میں دیگر شرکاء میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر داخلہ سینیٹر سید محسن رضا نقوی، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اقتصادی امور ڈویژن و اسٹیبلشمنٹ سینیٹر احد خان چیمہ، صوبائی وزرائے اعلیٰ، نگران وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ وزارتوں کے سینئر افسران شامل تھے۔

اجلاس میں چاروں صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے عوام پر قیمتوں کے اثرات کم کرنے، اشیائے ضروریہ کی دستیابی یقینی بنانے اور توانائی کے بوجھ کو کنٹرول کرنے کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

شرکاء نے وسیع تر علاقائی صورتحال اور اس کے پاکستان کی سکیورٹی، معیشت اور غذائی تحفظ پر ممکنہ اثرات کا جائزہ بھی لیا۔


اجلاس کو یقین دہانی کرائی گئی کہ عالمی بحران کے باوجود ملک میں ایندھن کی بروقت فراہمی میں کوئی تعطل نہیں آیا اور مستقبل کے لیے وافر ذخائر موجود ہیں۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے حکومت کی فعال سفارتی کوششوں کے حوالے سے بریفنگ دی، جس میں ترکی، سعودی عرب اور مصر کے رہنماؤں کے ساتھ حالیہ روابط اور بیجنگ کے آئندہ دورے کی تیاری شامل ہے۔

صدر زرداری نے یہ بھی نوٹ کیا کہ وزیر اعظم کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو متعدد بار مسترد کیا گیا، اور کفایت شعاری کے اقدامات سے بچائی گئی رقم عوامی ریلیف پر خرچ کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات میں ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور سرکاری گاڑیوں کے 60 فیصد فوری طور پر بند کرنا شامل ہیں۔


صدر نے معاشی طور پر کمزور طبقے کی مدد اور عوام کے لیے مربوط فیصلوں پر زور دیا، جن میں معاشی نظم و نسق، توانائی کی منصوبہ بندی، غذائی تحفظ اور سکیورٹی تیاریوں میں ہم آہنگی شامل ہے۔

علاوہ ازیں، عوامی آگاہی مہمات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ ایندھن کے استعمال میں کمی، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کو اپنانے کے ذریعے طلب کا بہتر انتظام یقینی بنایا جا سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.