اقتصادی اصلاحات وقت کا تقاضا، براہ راست ٹیکسوں میں کمی لائیں گے،شہباز شریف
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ معاشی استحکام اور ترقی کے لئے جامع اقتصادی اصلاحات ناگزیر ہیں اور حکومت آئندہ بجٹ میں براہ راست ٹیکسوں میں کمی لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”اڑان پاکستان“ پروگرام پر مؤثر عملدرآمد سے ملک ترقی کی نئی منازل طے کرے گا۔
وہ بدھ کو اسلام آباد میں پاکستان گورننس فورم 2026 کے افتتاحی سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں وفاقی وزراء، ارکان پارلیمنٹ اور برطانیہ کی ہائی کمشنر سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ جون 2023 میں ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا تاہم مشترکہ کوششوں سے معیشت کو سنبھالا دیا گیا۔ مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ پر آ چکی ہے جبکہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے گھٹ کر ساڑھے 10 فیصد ہو گیا ہے۔ آئی ٹی برآمدات میں 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دو سال میں بجلی کی قیمت میں 8 سے 9 روپے فی یونٹ کمی کی گئی اور ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کی شرح ساڑھے 7 فیصد سے کم کر کے ساڑھے 4 فیصد کر دی گئی۔ بجلی چوری سے سالانہ 200 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے جس کی روک تھام ضروری ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی کی شرح ساڑھے 10 فیصد تک پہنچی ہے، تاہم معیشت کی پائیدار نمو کے لئے پیداواری شعبے اور برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ شوگر، سیمنٹ اور تمباکو کے شعبوں میں سیلز ٹیکس وصولی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بعض اصلاحات ضروری ہیں تاہم کئی اصلاحات قومی مفاد میں ہماری اپنی ضرورت ہیں۔ پی ڈبلیو ڈی اور یوٹیلٹی سٹورز جیسے اداروں کے خاتمے سے قومی خزانے پر بوجھ کم ہوا۔

وزیراعظم نے نوجوانوں کو فنی اور تکنیکی تعلیم سے آراستہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاق، صوبے اور عسکری قیادت مل کر کام کریں تو پاکستان جلد اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتا ہے۔ تقریب کے اختتام پر وزیراعظم نے پی ایس ڈی پی ڈیٹا پورٹل کا اجرا بھی کیا۔