پاکستان اور قازقستان کا دوطرفہ تجارت آئندہ دو برس میں ایک ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق

0

اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف اور جمہوریہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے آئندہ دو برسوں میں دوطرفہ تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔


بدھ کو وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات اور بعد ازاں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔

صدر قاسم جومارت توکایووف کی وزیراعظم ہاؤس آمد پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ معزز مہمان کے اعزاز میں سرکاری استقبالیہ تقریب بھی منعقد کی گئی۔ صدر توکایووف نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔

ون آن ون ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے، جبکہ وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں دونوں ممالک کے اہم کابینہ اراکین نے شرکت کی۔

وفود کی سطح پر مذاکرات کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صدر توکایووف کے دورہ پاکستان کو پاکستان–قازقستان تعلقات میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا، کیونکہ 23 برس کے بعد کسی قازق صدر کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطحی روابط، دوطرفہ سیاسی مشاورت اور مشترکہ بین الحکومتی کمیشن سمیت قائم شدہ ادارہ جاتی طریقہ کار کی مؤثریت پر اطمینان کا اظہار کیا۔


مذاکرات میں دوطرفہ تجارت میں حالیہ برسوں کے دوران ہونے والے بتدریج اضافے کا جائزہ لیا گیا اور اس شعبے میں موجود غیر استعمال شدہ امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھانے پر زور دیا گیا۔

دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نجی شعبے کے درمیان بڑھتا ہوا اشتراک تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا، جبکہ پاکستان–قازقستان بزنس فورم کے انعقاد کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا۔


دونوں رہنماؤں نے علاقائی روابط اور نقل و حمل کے نظام، بشمول سڑک، ریل، فضائی اور بحری تعاون، کو فروغ دینے کے لیے قریبی تعاون پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ٹرانزٹ تجارت کے انتظامات اور علاقائی راہداریوں کو اقتصادی انضمام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

اس کے علاوہ تعلیم، ثقافت، سیاحت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ طویل المدتی دوطرفہ تعلقات کے استحکام کے لیے تعلیمی تبادلوں اور عوامی روابط کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا۔


دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے رہنماؤں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دورے کے دوران 37 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط اور ’’اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام‘‘ سے متعلق مشترکہ اعلامیہ مستقبل میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

صدر قاسم جومارت توکایووف نے شاندار مہمان نوازی پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور انہیں رواں سال قازقستان کے دورے کی دعوت دی، جسے وزیراعظم نے قبول کرتے ہوئے علاقائی امن، روابط اور ترقی کے لیے قازقستان کے ساتھ قریبی تعاون کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔


دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ سینئر وزراء اور متعلقہ حکام پر مشتمل ایک مشترکہ ورکنگ کمیٹی قائم کی جائے گی، جو آئندہ پانچ برسوں کے دوران دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے ایک جامع روڈ میپ مرتب کرے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.