حکومت نے امن بورڈ کے معاملے پر پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا،فضل الرحمن

0

اسلام آباد:جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ امریکی صدر فلسطینیوں کی مزاحمت ختم اور اسرائیلی جارحیت میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں، جبکہ حکومت نے امن بورڈ کے معاملے پر پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا۔

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا کہ امن بورڈ سمیت تمام اہم فیصلوں پر پارلیمان، عوام اور کابینہ سے مشاورت کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ متنازع قوانین اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوائے جائیں کیونکہ ہم نے آئینِ پاکستان کے تحت حلف اٹھایا ہے، نہ کہ اقوامِ متحدہ کے تحت۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو کمزور اور مسلح بیانیے کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق امن بورڈ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 20 نکاتی پالیسی کا حصہ ہے جس میں پاکستان سے مشاورت کے بغیر تبدیلیاں کی گئیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ امریکا نے خطے میں امن کے نام پر تباہی پھیلائی، جبکہ فلسطین میں ہزاروں افراد شہید اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے عزائم ہمیشہ پاکستان کے لیے بھی خطرہ رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پارلیمان نے امن بورڈ کو مسترد نہ کیا تو جے یو آئی (ف) حکومت کے خلاف تحریک چلانے سے گریز نہیں کرے گی اور ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ قوانین اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.