ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینکنگ کا ایک سال مکمل
اسلام آباد: ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک نے اپنی ڈیجیٹل بینکنگ آپریشنز کے ایک سال مکمل ہونے پر بیرونِ ملک سے ترسیلاتِ زر پاکستان بھیجنے کے لیے اینٹ انٹرنیشنل کے ورلڈ فرسٹ پلیٹ فارم کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کر دیا ہے۔
اس شراکت داری کے تحت دنیا بھر سے 100 سے زائد کرنسیوں میں پاکستان ایزی پیسہ کے ذریعے رقوم بھیجی جا سکیں گی۔
یہ اعلان اسلام آباد میں منعقدہ ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کی پہلی سالگرہ کی تقریب کے موقع پر کیا گیا، جس میں حکومتی، مالیاتی اور ٹیکنالوجی شعبے کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ایزی پیسہ کو ڈیجیٹل بینک کے طور پر ایک سال مکمل کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق ڈیجیٹل معیشت کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیز رفتار ڈیجیٹائزیشن پاکستان کی معیشت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہی ہے جبکہ آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ایک مثبت معاشی اشارہ ہے۔
انہوں نے جلد ملک میں فائیو جی سروسز کے آغاز کا بھی اعلان کیا۔
ایزی پیسہ حکام کے مطابق سال 2025 کے دوران ایزی پیسہ پلیٹ فارم کے ذریعے 3.8 ارب سے زائد ٹرانزیکشنز ہوئیں جن کی مجموعی مالیت 15 کھرب روپے سے زائد رہی۔ تقریب میں ملک بھر میں ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات تک رسائی بڑھانے میں ایزی پیسہ کے کردار کو سراہا گیا۔
تقریب کی میزبانی ایزی پیسہ بورڈ کے چیئرمین عرفان وہاب خان، اینٹ انٹرنیشنل کے صدر ڈگلس فیگن اور صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر جہانزیب خان نے کی۔
اس موقع پر اینٹ انٹرنیشنل کے ورلڈ فرسٹ پلیٹ فارم کے ساتھ شراکت داری کے آغاز کا بھی باضابطہ اعلان کیا گیا، جس کے تحت ایزی پیسہ صارفین 100 سے زائد ممالک سے براہِ راست اپنے اکاؤنٹس میں سرحد پار ادائیگیاں اور ترسیلاتِ زر وصول کر سکیں گے۔
اس اقدام سے خلیجی ممالک، برطانیہ اور امریکا کے علاوہ دیگر نئے کوریڈورز تک بھی رسائی ممکن ہو گی، جس سے فری لانسرز، برآمد کنندگان اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو نمایاں سہولت ملے گی۔
وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مؤثر پالیسی سازی کے لیے ڈیجیٹل فنانس کے ماہرین کی شمولیت ناگزیر ہے اور کیش لیس معیشت کے عملی فوائد کو اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بورڈ چیئرمین عرفان وہاب خان نے اس سنگ میل کو پاکستان کے مالیاتی نظام کے لیے باعثِ فخر قرار دیا، جبکہ اینٹ انٹرنیشنل کے صدر ڈگلس فیگن نے پاکستان میں جامع ڈیجیٹل مالیاتی مستقبل کی تعمیر کے لیے اینٹ گروپ کے طویل المدتی عزم کا اعادہ کیا۔
ایزی پیسہ کے مطابق اس وقت ڈیجیٹل لین دین پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 11 فیصد کے برابر ہو چکے ہیں، جبکہ ہر پانچ میں سے ایک پاکستانی ایزی پیسہ صارف ہے۔ صارفین میں خواتین کی نمائندگی 31 فیصد ہے، جو ڈیجیٹل شمولیت کے فروغ میں ایزی پیسہ کے بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔