ترکمانستان کا دورہ مکمل،وزیر اعظم وطن واپس روانہ
اشک آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف ترکمانستان کا دو روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپس روانہ ہوگئے۔
ترکمانستان کی کابینہ کے نائب چیئرمین اور ٹرانسپورٹ و مواصلات کے سربراہ محمد خان چیکیئف نے وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد کو الوداع کیا۔
دورے کے دوران وزیرِ اعظم نے بین الاقوامی سال برائے امن و اعتماد، عالمی دن برائے غیر جانبداری اور ترکمانستان کی تیس سالہ مستقل غیر جانبداری کی سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ عالمی فورم میں شرکت کی، جہاں وہ عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز رہے۔
عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں
فورم کے موقع پر وزیرِ اعظم نے ترکیہ، ترکمانستان اور ایران کے صدور سے باضابطہ دوطرفہ ملاقاتیں کیں جبکہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن، ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان، تاجکستان کے صدر امام علی رحمن اور کرغزستان کے صدر سادر ژپاروف سے غیر رسمی گفتگو بھی ہوئی۔
پاک۔ایران تعلقات: اعلیٰ سطحی مشاورتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق
وزیرِ اعظم نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور اعلیٰ سطحی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں تجارتی حجم میں اضافے، سرحدی منڈیوں کو فعال کرنے، سرحدی سلامتی کے فروغ اور اسلام آباد–بلوچستان ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے ذریعے تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ وزیرِ اعظم نے افغانستان کی سرزمین سے بڑھتی دہشت گردی پر پاکستان کے سنجیدہ خدشات سے بھی آگاہ کیا۔
غزہ کی صورتحال اور جاری امن کوششیں بھی گفتگو کا حصہ رہیں۔
ترکیہ کے ساتھ تعاون کے نئے امکانات
وزیرِ اعظم کی ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات میں توانائی، پیٹرولیم، معدنیات، دفاع، سرمایہ کاری اور سیاسی تعاون سمیت تمام شعبوں میں تعلقات مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے پاکستان میں توانائی اور تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل میں ترکیہ کے تجربے سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
اسلام آباد–تہران–استنبول ریل نیٹ ورک کی بحالی اور علاقائی روابط کو مزید بہتر بنانے پر بھی گفتگو ہوئی۔
فورم سے خطاب: عالمی امن، موسمیاتی خطرات اور ترقی پذیر ممالک کے چیلنجز
عالمی فورم سے خطاب میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ:
موسمیاتی تبدیلی، غربت اور عدم مساوات دنیا کے بڑے چیلنجز ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی ناگزیر ہے۔
پاکستان عالمی امن اور سلامتی کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔
افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی خطے کے لیے سنگین خطرہ ہے، عالمی برادری افغان طالبان حکومت پر ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے زور دے۔
پاکستان فلسطینی عوام اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
پاکستان نے عالمی سطح پر پائیدار ترقی کے ایجنڈے کے لیے نمایاں اقدامات کیے ہیں۔
وزیرِ اعظم نے ترکمانستان کی مستقل غیرجانبداری کے 30 سال مکمل ہونے پر ترکمان قیادت کو مبارکباد بھی پیش کی۔