وزیرِ اعظم شہباز شریف کا قوم سے خطاب: معیشت کے استحکام، عوامی ریلیف اور توانائی کی بچت کے لیے 14 نکاتی اقدامات کا اعلان
اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ایران، مشرق وسطیٰ اور خلیج سمیت خطے میں پیدا ہونے والی جنگی صورتحال کے تناظر میں معیشت کے استحکام، عوامی ریلیف، کفایت شعاری، سادگی اور توانائی کی بچت کے لیے 14 نکاتی اقدامات کا اعلان کر دیا۔
پیر کو قوم سے خطاب
کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومت نے فوری اور مشکل فیصلے کیے ہیں تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے اور عوام پر بوجھ کم سے کم ڈالا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کے پٹرول میں 50 فیصد کٹوتی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیاں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح وفاقی کابینہ کے ارکان، وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی دو ماہ تک تنخواہیں نہیں لیں گے جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کمی کی جائے گی۔
وزیرِ اعظم کے مطابق گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے ایسے افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ روپے سے زائد ہے، ان کی دو دن کی تنخواہ عوامی ریلیف کے لیے کاٹی جائے گی جبکہ تمام سرکاری محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری محکموں میں گاڑیوں، فرنیچر، اے سی اور دیگر اشیاء کی خریداری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ وزراء، مشیران، معاونین خصوصی اور سرکاری افسران کے بیرون ملک دوروں پر بھی پابندی ہوگی، سوائے ان دوروں کے جو ملکی مفاد کے لیے ناگزیر ہوں۔
توانائی کی بچت کے لیے سرکاری و نجی اداروں میں 50 فیصد اسٹاف کو ورک فرام ہوم کی سہولت دی جائے گی اور سرکاری دفاتر ہفتے میں پانچ کے بجائے چار دن کھلیں گے۔ تاہم یہ فیصلہ بینکوں، صنعت اور زرعی شعبے پر لاگو نہیں ہوگا۔
وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ تمام اسکولوں کو رواں ہفتے کے اختتام سے دو ہفتوں کی تعطیلات دی جائیں گی جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اگر حالات مزید خراب ہوئے تو اس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ سکتے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ممکنہ مشکلات کے باوجود عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔
وزیرِ اعظم نے اشرافیہ اور صاحبِ ثروت طبقات سے اپیل کی کہ وہ مشکل وقت میں قوم کے ساتھ کھڑے ہوں اور قومی کوششوں میں بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کو خبردار کیا کہ عوام کا استحصال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیرِ اعظم نے قومی اتحاد، صبر اور باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں متحد ہو کر ہی ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔