وزیراعظم کی زیر صدارت پیٹرولیم صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی، ذخائر اور ترسیل کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزارتِ پٹرولیم کی جانب سے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے اور سپلائی کے نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی پٹرول پمپ اس غیر قانونی عمل میں ملوث پایا جائے، اسے فوری طور پر بند کر کے اس کا لائسنس منسوخ کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
وزیراعظم نے وزیر پٹرولیم کو ہدایت دی کہ وہ تمام صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پیٹرولیم مصنوعات کی بچت اور عوام کو بلا تعطل فراہمی کے لیے جامع حکمت عملی اور لائحہ عمل تیار کریں۔
اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت کی مؤثر نگرانی کے لیے جدید ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بنانے کی بھی ہدایت دی گئی۔ اس ڈیش بورڈ کے ذریعے صوبائی حکومتوں کے ساتھ ریئل ٹائم میں ڈیٹا شیئر کیا جائے گا تاکہ ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور سپلائی کی مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء جام کمال خان، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک اور اویس خان لغاری سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔