وزیر اعظم ہاؤس میں آج اہم اِن کیمرا سکیورٹی اجلاس، اپوزیشن سے رابطے تیز، پی ٹی آئی کی شرکت بانی سے ملاقات سے مشروط

0

اسلام آباد: ملکی و علاقائی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور وزیر اعظم ہاؤس میں آج ایک اہم اِن کیمرا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، جس میں قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رٰانا ثنا اللہ اور رکن قومی اسمبلی طارق فضل چوہدری نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی۔

ملاقات میں موجودہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اپوزیشن کو اِن کیمرا اجلاس میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے طلب کردہ اجلاس میں ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی، اس لیے قومی قیادت کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ضروری ہے۔ طارق فضل چوہدری نے بھی اس موقع پر کہا کہ قومی معاملات پر سیاسی قیادت کو اختلافات سے بالاتر ہو کر متحد ہونا ہوگا۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پارٹی نے اِن کیمرا اجلاس میں شرکت کو بانی سے ملاقات کی شرط سے مشروط کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ بانی کے تمام آئینی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے، فیملی اور وکلا سے فوری ملاقات کرائی جائے اور انہیں علاج کے لیے فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، جہاں ذاتی معالجین اور اہل خانہ کی موجودگی میں علاج ممکن ہو۔

پارٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ کا ایک علیحدہ مشاورتی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس کی صدارت بیرسٹر گوہر علی خان نے کی۔

اجلاس میں سکیورٹی بریفنگ سے متعلق حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بانی کی ہدایات کے مطابق ایوان کے اندر اور باہر فیصلے کا اختیار محمود اچکزئی کو دے دیا گیا ہے۔

ادھر محمود خان اچکزئی نے سکیورٹی بریفنگ کے طریقۂ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بریفنگ محدود افراد کے بجائے پوری پارلیمنٹ کو دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے کے حالات خطرناک رخ اختیار کر رہے ہیں، اس لیے بہتر ہوگا کہ بریفنگ مشترکہ اجلاس یا کم از کم سینیٹ میں دی جائے۔

علاوہ ازیں مولانا فضل الرحمٰن، سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے بھی تصدیق کی کہ انہیں اِن کیمرا اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شرکت یا عدم شرکت کا فیصلہ پارٹی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

انہوں نے تجویز دی کہ اجلاس وزیر اعظم ہاؤس کے بجائے پارلیمنٹ ہاؤس میں بلایا جائے اور اس سے قبل سیاسی قائدین کی خصوصی ملاقات بھی ہونی چاہیے تاکہ پارلیمنٹ کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا جا سکے۔

سیاسی حلقوں کے مطابق ملک کی موجودہ داخلی اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، تاہم اجلاس میں شرکت سے متعلق حتمی فیصلے آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.