وزیراعظم کی زیر صدارت پاور سیکٹر اصلاحات پر اہم جائزہ اجلاس
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاور سیکٹر روڈمیپ پر ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم کو بجلی کی پیداوار، ترسیل، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) اور جنریشن کمپنیوں (جینکوز) کی نجکاری کے عمل، پاور سیکٹر میں دیگر اصلاحات اور مسابقت پر مبنی بجلی کی مارکیٹ کے قیام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے ڈسکوز اور جینکوز کی نجکاری کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے نظام کی نجکاری کے ذریعے مسابقتی بجلی کی مارکیٹ کا قیام ہی ملک میں توانائی کے مسائل کا پائیدار حل ہے۔
انہوں نے بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعلقہ ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ تین ڈسٹری بیوشن کمپنیوں آئیسکو (IESCO)، فیسکو (FESCO) اور گیپکو (GEPCO) کی نجکاری کے لیے اقدامات جاری ہیں اور اس سلسلے میں ایکسپریشن آف انٹرسٹ (EoIs) جلد شائع کیے جائیں گے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 500 کے وی غازی بروتھا–فیصل آباد ٹرانسمیشن لائن کے منصوبے کا پی سی ون منظوری کے مراحل میں ہے۔
وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ درآمدی کوئلے پر چلنے والے بجلی گھروں کو تھر کول پر منتقل کرنے کے لیے تکنیکی فزیبیلیٹی مکمل ہو چکی ہے، جبکہ تھر کول کی پاور پلانٹس تک ترسیل کے لیے ریلوے لائن پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ مسلسل کوششوں کے باعث گزشتہ سال کے مقابلے میں لائن لاسز میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے منصوبے کی کنسیپٹ کلیئرنس پروپوزل کی منظوری دی جا چکی ہے اور اس کی فزیبیلیٹی اسٹڈی جاری ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بجلی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور نجی شعبے کی شمولیت سے فوری کام کا آغاز کیا جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، احد خان چیمہ، سردار اویس احمد لغاری، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔