ملک بھر میں انسدادِ پولیو کی قومی مہم کا آغاز
اسلام آباد: ملک بھر میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے قومی انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اس مہم کے تحت 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
یہ سال 2025 کی پانچویں قومی انسدادِ پولیو مہم ہے، جو ستمبر میں ہونے والی خصوصی پولیو مہم اور نومبر میں خسرہ-روبیلا و پولیو سے بچاؤ کی مشترکہ قومی ویکسینیشن مہم کے بعد منعقد کی جا رہی ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (NEOC) کے مطابق 15 دسمبر سے شروع ہونے والی یہ مہم افغانستان کے ساتھ ہم آہنگ کی گئی ہے، تاکہ سرحدی علاقوں میں وائرس کی منتقلی کو روکا جا سکے اور دونوں ممالک میں حفاظتی قوت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک پولیو کے 30 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 74 تھی، جو پولیو کے خاتمے کی جانب پاکستان کی نمایاں پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہم پولیو کے مکمل خاتمے کے ہدف کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں اور یہ مہم اُن علاقوں میں وائرس کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدام ثابت ہوگی جہاں یہ اب بھی موجود ہے۔
اس مہم کے دوران چار لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا، پنجاب، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے، تاکہ کوئی بھی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہ جائے۔
حکام کے مطابق موسمی تبدیلیاں، آبادی کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت اور قوتِ مدافعت میں موجود خلا کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر پانچ سال سے کم عمر بچے کو پولیو ویکسین کے دو قطرے پلانا انتہائی ضروری ہے، تاکہ وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور پولیو سے پاک مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔
پولیو پروگرام کے ترجمان نے میڈیا سے اپیل کی ہے کہ مثبت اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے ذریعے والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کو بروقت اور درست معلومات فراہم کی جائیں۔ پروگرام کی جانب سے انٹرویوز، بی رول ویڈیوز، تصاویر اور فیلڈ تک رسائی کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، تاکہ عوام میں آگاہی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ قومی عزم اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہم ہر بچے کو پولیو کے خطرے سے محفوظ بنا سکتے ہیں اور ایک صحت مند، روشن پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔