عدم اعتماد کامیاب، فیصل ممتاز راٹھور آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب
مظفر آباد: آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی، جس کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل ممتاز راٹھور آزاد کشمیر کے سولہویں وزیراعظم منتخب ہو گئے۔
اسمبلی کے 49 کے ایوان میں فیصل ممتاز راٹھور نے 36 ووٹ حاصل کیے، جبکہ سابق وزیراعظم کے حق میں صرف 2 ووٹ پڑے۔ عدم اعتماد کے مرحلے پر 9 ارکان ایوان سے غیر حاضر رہے۔
1978 میں راولپنڈی میں پیدا ہونے والے فیصل ممتاز راٹھور مضبوط سیاسی پس منظر رکھتے ہیں۔ وہ آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم ممتاز حسین راٹھور مرحوم کے فرزند ہیں۔ ان کی والدہ بیگم فرحت راٹھور بھی قانون ساز اسمبلی کی رکن اور پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی صدر رہ چکی ہیں۔ ان کا خاندان آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔
فیصل راٹھور نے ابتدائی تعلیم راولپنڈی سے حاصل کی جبکہ گریجویشن پنجاب یونیورسٹی سے کی۔ انہوں نے پہلی بار 2006 میں ایل اے-17 حویلی کہوٹہ سے انتخاب لڑا۔
2011 میں پہلی بار پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر چوہدری عبدالمجید کی کابینہ میں وزیرِ اکلاس اور وزیرِ برقیات رہے۔
2016 میں ایک سیاسی مقدمے میں گرفتار ہوئے مگر بعد میں بے گناہ قرار پائے۔
2017 میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے اور آج تک یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔
2021 کے انتخابات میں دوسری بار کامیابی حاصل کر کے اسمبلی میں مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔
2023 میں چوہدری انوار الحق کی اتحادی حکومت میں وزیرِ لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈیولپمنٹ مقرر ہوئے۔
حکومت کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ بھی رہے۔
فیصل ممتاز راٹھور نرم گفتار، صلح جو اور غیر متنازعہ شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں اور سیاسی و عسکری حلقوں میں بھی اچھی شہرت رکھتے ہیں۔
ان کا نیشنل میڈیا کا وسیع تجربہ ہے اور وہ بول ٹی وی پر مستقل پروگرام کی میزبانی کر چکے ہیں۔
پارٹی قیادت میں انہیں بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا انتہائی اعتماد حاصل ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کے نظریاتی دھڑے اور متوسط طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔