دشمن غرور میں لپٹا آیا اور ذلت کے ساتھ واپس لوٹا،غزہ میں فوری جنگ بندی کا راستہ نکالنا ہوگا، شہباز شریف
نیویارک:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھارت کے ساتھ جامع اور نتیجہ خیز مذاکرت کے لئے تیار ہیں، دشمن غرور میں لپٹا آیا اور ذلت کے ساتھ واپس لوٹا، جنگ جیت لی، اب ہم امن جیتنے کے خواہاں ہیں، سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی اعلان جنگ کے مترادف ہے،غزہ میں فوری جنگ بندی کا راستہ نکالنا ہوگا، افغانستان کی عبوری حکومت دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج کی دنیا پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، تنازعات بڑھ رہے ہیں، بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے، انسانی بحران بڑھتے جا رہے ہیں، دہشت گردی اب بھی ایک طاقتور خطرہ ہے، غلط معلومات اور فیک نیوز اعتماد کو مجروح کرتی ہیں، اسلحے کی بے لگام دوڑ اور نئی ٹیکنالوجیز تباہ کن غلطیوں کے خطرے کو بڑھا رہی ہیں اور ان سب سے بڑھ کر ماحولیاتی تبدیلی ہماری بقاء کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جب مشرقی محاذ سے ہم پر بلااشتعال جارحیت کی گئی، دشمن غرور میں لپٹا آیا اور ذلت کے ساتھ واپس لوٹا ہماری بہادر مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بے مثال پیشہ ورانہ صلاحیت، بہادری اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا، ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی قیادت میں ہمارے شاہینوں نے فضاؤں میں دشمن کے حملے کو پسپا کرتے ہوئے سات بھارتی طیاروں کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا.
وزیراعظم نے کہا کہ ہم طاقت میں ہونے کے باوجود جنگ بندی پر آمادہ ہوئے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جراتمند اور بصیرت افروز قیادت سے ممکن ہوئی، صدر ٹرمپ امن کے علمبردار ہیں اور امن کے لئے ان کی کوششوں پر ہی پاکستان نے نوبل امن ایوارڈ کے لئے ان کا نام پیش کیا ہے۔
وزیراعظم نے چین، ترکیہ، سعودی عرب، قطر، آذربائیجان، ایران، متحدہ عرب امارات اور سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سمیت پاکستان کے دوستوں اور شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے نازک وقت میں پاکستان کی سفارتی حمایت کی.
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا یکطرفہ اور غیرقانونی اقدام نہ صرف اس معاہدے کی شقوں بلکہ بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کشمیری عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں، م کشمیری عوام ایک غیرجانبدارانہ ریفرنڈم کے ذریعے اقوام متحدہ کی نگرانی میں اپنا حق خودارادیت حاصل کریں گے۔
فلسطین کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی عوام کی حالت زار ہمارے دور کے سب سے زیادہ دل دہلا دینے والے المیوں میں سے ایک ہے، یہ طویل ناانصافی عالمی ضمیر پر دھبہ اور ہماری اجتماعی اخلاقی ناکامی ہے ہمیں فوری جنگ بندی کا راستہ نکالنا ہوگا، فلسطین اب مزید اسرائیلی زنجیروں میں نہیں رہ سکتا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے انسداد دہشت گردی اور دنیا میں امن کے قیام کے لئے لازوال قربانیاں دی ہیں، ہماری ان قربانیوں کا اعتراف کیا جانا چاہئے، دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھا چکا ہے، آج ہمیں بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ہمارے سکیورٹی ادارے ان دہشت گردوں کا صفایا کر رہے ہیں اور ہم اس جنگ کو آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ عبوری افغان حکومت سے ہم توقع کرتے ہیں کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی بحران سب سے فوری عالمی چیلنج ہے، 2022ء میں پاکستان کو شدید سیلاب کا سامنا کرنا پڑا جس کے نقصانات 34 ارب ڈالر سے زیادہ تھے، اس کے علاوہ قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں، اس سال پھر ایک بڑے سیلاب نے ہزاروں دیہات بہا دیے، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، ایک ہزار سے زائد جانیں ضائع ہوئیں اور کھیت کھلیان تباہ ہوگئے، فصلوں، مال مویشیوں اور املاک کا اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کا عالمی گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی وجہ سے ہمیں قرضے لینا پڑتے ہیں، یہ انصاف نہیں ہے، قرضے معیشت کے لئے تباہ کن ہیں، ہم بھرپور محنت کریں گے، اپنے ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں گے اور پاکستان کو ایک عظیم ملک بنائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کے تاریخی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے تزویراتی شراکت داری ہماری ترقی میں معاون ہے۔ انہوں نے زیادہ منصفانہ اور جامع ترقی کے مؤثر فریم ورک کے ذریعے گلوبل گورننس انیشی ایٹو سمیت صدر شی جن پنگ کے وژن اور دوراندیشی کو سراہا۔