پشاور دھماکہ کے شہداء کی تعداد 72تک پہنچ گئی
پشاور : پولیس لائنز کی مسجد میں نماز ظہر کے دوران خودکش دھماکے میں امام مسجد اور پولیس اہلکاروں سمیت شہید ہونے والوں کی تعداد 72 ہوگئی جب کہ 157 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، دھماکے سے مسجد کی دومنزلہ عمارت کر گئی، سکیورٹی حکام کے مطابق حملہ آور نمازیوں کی پہلی صف میں موجود تھا، مسجد کے ملبے سے مزید9 شہدا کی میتیں نکال لی گئیں ،اب بھی متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے، بھاری مشینری سے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال نے دھماکے میں شہید اور زخمی افراد کی فہرست جاری کردی ہے جس کے مطابق دھماکے میں 72 افراد شہید ہوئے، 157 زخمی ہوئے۔
شہداء میں ڈی ایس پی عرب نواز، 5 سب انسپکٹرز، مسجد کے پیش امام صاحبزادہ نور الامین ، ایک خاتون اور دیگر افراد شامل ہیں۔ خاتون مسجد سے متصل پولیس کوارٹر میں رہاش پذیر تھی۔
ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تین جاں بحق افراد کی شناخت ابھی نہیں ہوسکی ہے۔
ریسکیو کے مطابق پشاور کے علاقے صدر پولیس لائنز میں مسجد کے اندر دھماکا ہوا، دھماکے کی آواز اتنی شدید تھی کہ دور دور تک سنی گئی جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے جب کہ دھما کے کے بعد علاقے میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔
ریسکیو کا کہنا ہےکہ دھماکے کے بعد ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے، سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو سیل کردیا۔
انتظامیہ لیڈی ریڈنگ اسپتال کا کہنا ہے کہ اسپتال میں خون کی اشد ضرورت ہے، شہریوں سے اپیل ہے کہ خون کے زیادہ سے زیادہ عطیات دیے جائیں۔
ڈپٹی کمشنر کےمطابق لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کو او نیگیٹو خون کی اشد ضرورت ہے لہٰذا او نیگیٹو خون والے حضرات جلد از جلد خون عطیہ کریں۔