پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف نہیں،شہباز شریف
لندن:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں غزہ کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس کا مثبت نتیجہ بہت جلد سامنے آئے گا،پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف نہیں،
پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت خارجہ پالیسی سمیت تمام معاملات میں ایک پیج پر ہے،پچھلی حکومت نے دہشت گردوں کو رہا کر کے دوبارہ بسایا،افواج پاکستان نے بھارت کو جو سبق سکھایا ہےوہ اسے ہمیشہ یاد رہے گا۔
برطانیہ میں پاکستانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ سب کو مبارک ہو، نیویارک اور واشنگٹن کا ہمارا دورہ انتہائی کامیاب اور مفید رہا ۔اقوام متحدہ میں غزہ سے متعلق اجلاس میں حوصلہ افزاءبات چیت ہوئی ۔ مجھے کامل یقین ہے کہ غزہ پر حالیہ اجلاس کا مثبت نتیجہ بہت جلد سامنے آئے گا، غزہ میں مسلمانوں کے خلاف بربریت کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے الحمدللہ غزہ کی صورتحال پر جنرل اسمبلی میں بھرپور آواز اٹھائی، فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اس کے علاوہ مسئلہ کشمیر اور کشمیر کی آزادی کے لیے بھی جنرل اسمبلی کے فورم پر بھرپور آواز اٹھائی، معرکہ حق میں ہم نے بھارت کو شکست فاش دی ،اللہ تعالی کے فضل و کرم سے بھارت کو ایسا سبق سکھایا ہے جو زندگی بھر اسے یاد رہے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں معر کہ حق میں پاکستان نے تاریخی فتح حاصل کی،پاک فضائیہ نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں ہمارے بہادر شاہینوں نے اپنی جرات اور بہادری دکھائی اور اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم اور 24 کروڑ عوام کی دعاؤں سے معیشت بنیادی استحکام حاصل کر چکی، اب ترقی اور پائیدار استحکام کے لیے دن رات کام ہو رہا ہے، بدقسمتی سے موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے حالیہ سیلاب نے بہت تباہی مچائی ہے، سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ ہمارا حوصلہ اور عزم بلند ہیں اور انشاءاللہ اس صورتحال سے نمٹیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ انتہائی مفید، تعمیری اور خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی، باہمی تعلقات مزید بہتر بنانے میں یہ ملاقات اہم رہی،ملاقات میں تجارت ،سرمایہ کاری، تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری پر بات ہوئی، آئی ٹی، زراعت اور دیگر شعبوں میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ دوست اور برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا گیا ہے، سعودی عرب کے دورے میں پاکستان کو بے پناہ عزت دی گئی، سعودی قیادت نے شاندار انداز میں استقبال کیا جو 24 کروڑ پاکستانیوں کے لیے باعث فخر ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پچھلی حکومت نے دہشت گردوں کو رہا کر کے دوبارہ بسایا، دہشت گردی کی بڑی وجہ دہشت گردوں کو دوبارہ بسانا ہے۔ فتنہ الخوارج ،کالعدم ٹی ٹی پی،بی ایل اے اور مجید بریگیڈ فتنہ ہندوستان کے آلہ کار ہیں۔ افواج پاکستان ،قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس سب مل کر دن رات انسداد دہشت گردی کے لیے بر سرِ پیکار ہیں، دہشت گردوں کا صفایا کیا جا رہا ہے۔دہشت گردوں کا خاتمہ کرکے رہیں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالی کا بے پایاں فضل و کرم ہے کہ اس نے مجھے موقع عطا کیا اور میں نے نہ صرف اقوام متحدہ میں پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے جذبات کی ترجمانی کی، بلکہ غزہ اور کشمیر میں جو ظلم ہو رہا ہے وہاں کے مظلوموں کی آواز بنا۔
ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خارجہ پالیسی اور معیشت سمیت ہر معاملے پر مشاورت کرتے ہیں اور ہم ایک پیج پہ ہیں۔
۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف نہیں،دفاعی معاہدہ پاکستان اور سعودی عوام کی دیرینہ خواہش تھی جو پوری کی گئی ہے، حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم طاقت کی دوڑ میں شامل نہیں ہیں ہم پاکستان کی ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں اور ملک کی اقتصادی منزل کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ غربت و بے روزگاری کے خاتمے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کےلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔زراعت ، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت کانکنی و معدنیات اور نوجوانوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم کی خواہش ہے کہ پاکستان معاشی طور پر ایک خوشحال ملک بن جائے، اپنے پاؤں پہ کھڑا ہو، قرضوں سے نجات حاصل کرے،اپنی دولت خود پیدا کرے۔ اس حوالے سے پاکستانی قوم میں صلاحیت موجود ہے اور اللہ تعالی نے ہمیں قدرتی وسائل سے مالا مال کیا ہوا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اس سے پوری طرح فائدہ اٹھائیں، دوست ممالک ہمارے ساتھ ہاتھ بٹانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ غزہ کے حوالے سے بہت جلد اچھی خبریں ملیں گی۔